ہیپاٹئٹس سی کی معلومات کینیڈا میں رہنے والے ایمیگرنٹس کے لیے کیوں ضروری ہیں؟

کینیڈا میں ہیپاٹئٹس سی کے٪ 35 واقعات ایمیگرنٹس میں ھوتے ہیں- ہیپاٹئٹس سی مقامی کینیڈینز کی نسبت ایمیگرنٹس میں زیادہ پایا جاتا ہے- ھو سکتا ہے کہ آپ میں یہ وائرس موجود ھو اور آپ کو اس کا علم نہ ھو کیونکہ:

کچھ ہی لوگوں کو ہیپاٹئٹس سی کے خطرات کا علم ہے۔ دنیا بھر میں ہیپاٹئٹس سی کے 40 ٪ واقعات غیر محفوظ طبی عمل کی وجہ سے ھوتے ہیں، جس میں وائرس زدہ خون کی منتقلی، مشترکہ سرنجوں اور منشیات کے لیے استعمال ہونے والا سامان بھی شامل ہے-

کینیڈا میں داخل ھونے والے ایمیگرنٹس کا کسی بھی ہیپاٹئٹس کا ٹسٹ نہیں ھوتا- جو لوگ کینیڈا منتقل ھونا چاہتے ہیں ان کا آتشک، ایچ آئی وی اور ٹی بی کے ٹسٹ تو ھوتے ہیں مگر ہیپاٹئٹس اے، بی اور سی کے نہیں-

اکثر ہیپاٹئٹس سی کی کوئی علامات نہیں ھوتیں- اکثر ہیپاٹئٹس سی سے متاثرہ لوگ کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں کرتے-بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اس وقت اس کا علم ھو کہ وہ بیمار ہیں جب ان کے جگر کو نقصان پہنچ چکا ھو یا پھر جگر کے کینسر کا آغازھو چکا ھو-

ایمیگرنٹس کو صحت کی سہولیات حاصل کرنے اور ٹسٹ کروانے میں روکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتاہے- کینیڈا میں آنے والے نۓ ایمیگرنٹس نظام صحت کا کم استعمال کرتے ہیں اور معلومات اور سہولیات کے حصول میں انہیں اکثر ثقافتی اور لسانی روکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

اکثر کینیڈا میں آنے والے نۓ افراد کی ترجیح صحت نہیں ھوتی- جب آپ ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہے ھوں تو کئ اور چیزیں صحت پر ترجیح لے سکتی ہیں- نئی زندگی کا دباوء آپ کی صحت، خوراک اور منشیات کے استعمال پر اثر انداز ھو سکتا ہے- فیملی ڈاکٹر کو ڈھونڈنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اکثر لوگ صرف کسی ہنگامی صورت حال میں ھی نظام صحت کا استعمال کرتے ہیں-