ہیپاٹائٹس سی کا علاج

علاج کے ذریعے ہیپاٹائٹس سی سے نجات ممکن ہے- 

 ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے مقاصد مندرجہ ذیل  ہیں:     

  • مریض کے جسم کو وائرس سے نجات دلانا
  • جگر کے نقصان کو کم کرنا
  • علاج کنندہ کی زندگی کو بہتر بنانا
  • ہیپاٹائٹس سی کو پھیلنے سے روکنا

ادویات:

عام ادویات جیسے کہ انٹی بایئوٹکس ، وائرسسز  کو  مار نہیں سکتیں- تاہم وائرسسز  پر  انٹی وائرل  ادویات کے ذریعہ قابو کیا جاسکتا  ہے-

ہیپاٹائٹس سی کا مروجہ علاج کئی     ادویات کے مشترکہ استعمال پر مبنی  ہے -  عام طور پر استعمال ہونے والی دو     ادویات  "پیگ انٹرفیرون " اور " ریباوائرن"  بعض اوقات نئی ادویات  جیسے کے  "سوفوسبووئر"  اور  "سمیپراوئر "کے ساتھ ملا کے استعمال کی جاتی ہیں-

کچھ دیگر ادویات مثلا "ہارونی" یا  پھر" سوفوسبووئر" اور "سمیپراوئر" کو  اگر اکٹھے استعمال کیا جاۓ  تو ان کو "پیگ انٹرفیرون" کے بغیر  استعمال کیا جاتا  ہے-

ایک اور دوائی "ہالکیرا پاک " بعض اوقات " ریباوائرن " کے ساتھ استعمال کی جاتی  ہے-

ان نئی  ادویات کو براہ راست اثر کرنے والی "انٹی وائرل"  ادویات بھی کہا جاتا  ہے۔ یہ ادویات  مریض  کے  جسم میں  موجود   ہیپاٹائٹس سی  کے   وائرس  کی    پیداوار  کو  روکتے ہوۓ  اُسے   مریض  کے جسم میں مزید   پھیلنے سے  روک  سکتی ہیں۔

نئی  ادویات  کے ساتھ  علاج  کی مدت  عام طور پرتین   ماہ   ہوتی ہے ، تاہم کچھ  صورتوں میں یہ مدت چھ مہینے  بھی ہو سکتی ہے- ہیپاٹائٹس سی کی کچھ  ادویات   جیسا کے "پیگ انٹرفیرون " اور "ریباوائرن" کے   شدید مضر  اثرات بھی  ہوتے ہیں تاہم ان  مضر اثرات  پر کسی حد تک قابو  پایا  جا  سکتا ہے-

کچھ نئی  ادویات اب  صوبائی  اور  علاقائی     دواخانوں   سے دستیاب   ہیں-  ان ادویات  کے حصول کے لئے   کچھ شرائط  پر پورا  اترنا ضروری ہے-  مثال کے طور پر ایک خاص حد تک  مریض کے جگر کا متاثر ہونا،    یا پھر ہیپاٹائٹس سی وائرس کی  خاص   جنیاتی قسم  سے مریض   کا متاثر ہونا- بہت سی  نئی  ادویات براہ راست اثر کرنے والی انٹی وائرل ادویات  ہیں- ان میں سے  کچھ ادویات "پیگ انٹرفیرون"  اور "ریباوائرن"  کا متبادل  ہیں-

علاج  کے لئےتیاری

علاج کے نتیجے میں کوئی شخص بیماری  سے نجات حاصل کر پاۓ گا   یا  نہیں اس کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا  ہے مثلا:

  • متعلقہ  شخص ہیپاٹائٹس سی وائرس  کی کو کونسی  جنیاتی  قسم سے متاثر  ہوا   ہے
  • ان کے جگر کو کس حد تک نقصان پہنچ  چکا  ہے
  • کوئی شخص کس قدر باقاعدگی سے دوایاں لیتا ہے
  • جسمانی وزن
  • شراب نوشی کی مقدار
  • انہیں کس حد تک دوستوں اور گھروالوں کا سہارا  دستیاب ہے -

یہ ضروری ہے کہ علاج شروع کرنے سے پہلے آپ  اپنے صحت کی دیکھ بھال  کے کارکن، دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کریں-  ڈاکٹر علاج شروع کرنے سے پہلے،   علاج  کے        دوران اور ہر تین سے چھ مہینے بعد، مریض کی حالت کا  جائزہ   لیتے    رہیں گے- وہ مریض کے جگر کی صحت اور اسکے جسم میں  موجود  وائرس کی مقدار کا حساب رکھیں گے-  اگر  کسی شخص کا  جگر بیماری  سے  بہت  زیادہ  متاثر  ہے  تو  ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر ان  اْس کے صحت یاب ہونے کے بعد  بھی  جگر  کے  سرطان کے  خطرے  کے  پیشِ نظر  اْس کی حالت کا  جائزہ  لیتے رہیں-

علاج  کی مدت  کے علاوہ  کچھ اور چیزوں کو بھی    ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔جس  میں شامل  ہیں علاج  کے منفی اثرات  جن کی وجہ سے کسی شخص کو  کام سے  رخصت درکار ہو سکتی ہے  یا   پھر صحت سے متعلقہ دیگر  مسائل جن  سے  نبٹنے کی ضرورت ہو سکتی ہے-  اس  کے علاوہ  علاج  کے اخراجات کو  بھی  مدِ نظر  رکھنا چاہئے-

ہیپاٹائٹس سی کا علاج  کافی  مہنگا  ہے اور   ‍ قیمت کی وجہ سے  یہ کچھ لوگوں کی پہنچ  سے باہر ہو سکتا  ہے-تاہم    ایسے   پروگرام موجود  ہیں جو علاج  کی قیمت  برداشت کرنے  میں مدد دے  سکتے ہیں- کئی  صوبے اور  علاقاجات  اب  نئے علاج  کے لئے  مالی معاونت  مہیا کر رہے ہیں- مقامی  صحت  کے  کارکن مریضوں کو یہ سمجھنے میں مدد کرسکتا ہے کہ  علاج  میں کس کس  چیز  کے لیے   مالی معاونت   دستیاب ہے اور کس کی کے  لیے نہیں- 

متاثرہ  فرد کے خاندان  کے  افراد  یا  دوست مر یض کا   بہت کارآمد  سہارا   ہو سکتے  ہیں اور اس شخص کی ذہنی  اور جسمانی صحت کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں -  علاج  شروع کرنے کا فیصلہ کوئی شخص  اپنے  ڈاکٹر اور ان لوگوں کےمشورے سے کرتا ہے جو اس کے مددگار ہوتے  ہیں-

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ  کامیاب    علاج  بھی  اِس    بات  کی  قتعئ    ضمانت   نہیں دیتا   کہ       وہ  شخص دوبارہ  وائرس سے متاثر   نہیں ہو  گا،      اور کوئی شخص اپنے پرخطر طرز عمل کے باعث وائرس سے دوبارہ  متاثر ہو سکتا ہے-

علاج  نہ صرف  کسی کے جگر  بلکہ جان کو بھی کو بچا سکتا ہے!